نئی دہلی،14؍ اگست(ایس او نیوز؍ایجنسی)کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بند (لاک)کئے جانے کے بعد سے ہنگامہ مچا ہوا ہے، اب نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (این سی پی سی آر) نے راہل گاندھی کے فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹ پر بھی کارروائی کرنے کی مانگ کی ہے-ذرائع کے مطابق کمیشن نے فیس بک اور انسٹاگرام کو لکھا ہے کہ راہل گاندھی نے عصمت دری کی شکار کے والدین کی شناخت ظاہر کر کے پاکسو قانون کی خلاف ورزی کی ہے- اس لیے ان کے خلاف کارروائی کی جائے- اس معاملے میں ٹوئٹر پہلے ہی راہل گاندھی کا ہینڈل کو لاک کرچکا ہے-دوسری جانب راہل گاندھی نے الزام لگایا ہے کہ یہ امریکی کمپنی جانبدار ہے، یہ ہندوستان کے سیاسی عمل میں مداخلت کر رہی ہے اور حکومت کی ہدایات کے مطابق چل رہی ہے- انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جو کچھ ٹوئٹر نے کیا ہے وہ ہندوستان کے جمہوری ڈھانچہ پر حملہ ہے- کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے جمعہ کے روز اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے بندہونے کے تنازع کے پس منظر میں مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم پر طنز کرتے ہوئے الزام لگایا کہ امریکی کمپنی ٹوئٹر ہندوستان کے سیاسی عمل اور جمہوری ڈھانچے پر حملہ کررہاہے۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ٹوئٹر جانبدار ہے اور حکومت کی ہدایات کے مطابق کام کر رہا ہے-قابل ذکر ہے کہ ٹوئٹر نے راہل گاندھی، کانگریس اور پارٹی کے کئی سینئر لیڈروں کے ٹوئٹر اکاؤنٹس بند کر دئے ہیں - کچھ دن پہلے سابق کانگریس صدر کا ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل کر دیا گیا تھا،کیوں کہ انہوں نے ایک نو سالہ بچی کے والدین سے ملاقات کی تصویر شیئر کی تھی-دوسری جانب ٹوئٹر نے کہا ہے کہ اس نے یہ اقدامات قواعد کے تحت کئے ہیں -جمعہ کو جاری ایک بیان میں راہل گاندھی نے کہا کہ میرا ٹوئٹر اکاؤنٹ بند کر کے وہ ہمارے سیاسی عمل میں مداخلت کر رہے ہیں -